اردو ہے جس کا نام

غلط العام کی بات ہے تو اسے کچھ اور بڑھاتے ہیں پہلے اردو زبان کے بارے میں کچھ۔معروف معنی میں یہ کوئی زبان نہیں بلکہ زبانوں کا ایک مرکب سنگم اور مجمع البحرین ہے۔ایسا کوئی لفظ اس میں نہیں جسے اردو کا اپنا لفظ کہا جاسکے۔دوسرے یہ کہ یہ کسی بھی قوم یا نسل کی زبان نہیں کیونکہ یہ ہر قوم و نسل کی زبان ہے۔جن لوگوں کو اردو کے’’اہل زبان‘‘ کہا جاتا ہے وہ بھی چند نسلیں قبل اور زبان کے تھے۔چنانچہ ان میں نسلی لحاظ سے ہندی ایرانی،عربی،ترکی زبانوں کے لوگ بھی ہیں اور مقامی پنجابی، کشمیری، گوجری،سندھی، بلوچی، پشتو، بنگالی، گجراتی اور ساؤتھ کی بے شمار زبانوں والے ہیں اور ان زبانوں کے الفاظ بھی۔یہاں تک کہ اس کا نام بھی اس کا اپنا نہیں ہے ایک زمانے میں اس کے لیے ’’ریختہ‘‘ کا نام بھی وضع کیا گیا تھا لیکن وہ نہیں چلا۔ کیونکہ ’’ریختہ‘‘ بھی تو فارسی نژاد لفظ ہے چلیے اس لفظ’’اردو‘‘ کا تعاقب کرتے ہیں کہ یہ ہمیں کہاں پہنچاتا ہے۔

عام طور پر اس لفظ’’اردو‘‘ کو ترکی زبان کا لفظ کہا جاتا ہے لیکن یہ بھی درست نہیں۔بنیادی طور پر دجلہ وفرات کی ’’اشوری‘‘ سلطنت قائم تھی تو اس میں بڑے بڑے فاتحین اور نامور بادشاہ گزرے تھے جیسے ’’اشور  حدین‘‘ اشور بنی پال اور حمورابی جسے دنیا کا پہلا مقنن یا قانون ساز بادشاہ کہا جاتا ہے یہاں تک کہ تورات میں جو دس قوانین حضرت موسیٰ سے منسوب کیے گئے ہیں یاد رہے کہ موجودہ تورات قطعی اسرائیلیوں کی تصنیف اور جھوٹ کا پلندہ ہے، اصل تورات کا اس میں کہیں شائبہ بھی نہیں کیونکہ اصل تورات کم ازکم چھ بار دنیا سے مکمل طور پر غائب ہوچکی ہے اور پھر کئی صدیوں بعد کچھ لوگوں کی یاد داشتوں یا کہانیوں سے مرتب ہوئی ہے۔

اندازہ اس سے لگائیں کہ حضرت موسیٰؑ سے منسوب ان کی خاص کتاب’’استستا‘‘ میں ان کی وفات،تجہیز وتکفین اور بعد کی ساٹھ باتیں درج ہیں۔یہ دس قوانین یا ٹن کمانڈمنٹ اسی کتاب میں ہیں۔ حمورابی کا زمانہ دو ہزار قبل مسیح کا بتایا جاتا ہے۔خیر ہماری اصل بحث لفظ ’’اردو‘‘ سے ہے یہ اشوری بادشاہ جس کا دارالحکومت ’’نینویٰ‘‘ تھا ، یہ لوگ بڑے ظالم خونریز اور جنگ پسند تھے اور ہر طرف انھوں نے اپنی فتوحات کے جھنڈے لہرائے تھے اور مال غنیمت بھی خوب اکٹھا کیا جو ہر دور کی فتوحات کا خاصا بلکہ مقصد ہوتا ہے باقی صرف بہانے ہوتے ہیں کیونکہ حکمران بھی دراصل بڑے پیمانے پر اور ترقی دادہ’’لٹیرا‘‘ ہی ہوتا ہے۔

وہ اشوری حکمران جب دوسری اقوام کے لوگوں کو غلام بنا لاتے تھے تو ان کو اپنے شہر’’نینوا‘‘ میں نہیں رکھتے تھے بلکہ نینوا کے قریب انھوں نے ان کے لیے ایک کیمپ قائم کیا تھا جس کا نام ’’اُریدو‘‘ تھا۔اُر بمعنی ’’شہر‘‘ اور ’’یدو‘‘ بمعنی غلام۔غلاموں کا شہر یا بستی۔لفظ’’اُر‘‘ بمعنی شہر یا بستی سامی زبانوں اور اقوام میں مروج تھا۔آریائی زبانوں میں یہ’’اُر‘‘ تھا جو ’’ہار‘‘ سے بنا تھا جیسے قندہار،ننگرہار پوٹھو ہار چپرہار وغیرہ پھر یہ ’’آر‘‘ ہوگیا۔لفظ ایک ہی ہے تلفظ لہجوں کا فرق ہے۔

جیسے ہمارے ہاں اب بھی کچھ لوگ شہرکراچی، شہر لاہور، شہر پشاور کہتے ہیں اور کچھ کراچی شہر،لاہور شہر، پشاور شہر کہتے ہیں، دوسری بات یہ کہ اشقاق اللغہ یا آٹمالوجی میں سالم لفظ شمار ہوتے ہیں اضافتیں(زیر زبر پیش) شمار نہیں ہوتے۔لفظ ’’شہر‘‘ بھی اصل میں شاہ ہر‘‘ ’’شہ ہر‘‘ یعنی بڑی بستی ہے دجلہ و فرات میں یہ لفظ’’اُر‘‘ اور بھی کئی شہروں کا لاحقہ تھا جیسے اریک،ارویک،اُر ۔اُرطو ’’اُریحا‘‘ وغیرہ لفظ عراق بھی ’’اُریک‘‘سے بنا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ پھر ان لوگوں سے دوسرے بیگاروں اور کاموں کے ساتھ ساتھ لشکروں کا کام بھی لیا جانے لگا۔فتح ہوجاتی تو وہ بادشاہ کی ہوتی اور اگر مرجاتے تو پرائے تھے دشمن کا مال تھا خرچ ہوگیا خس کم جہاں پاک۔بعد میں آہستہ آہستہ ان کو اُجرت اور تھوڑا بہت مال غنیمت میں سے حصہ بھی دیا جانے لگا اور یوں فوجیوں کا نام ہی’’اردو‘‘ پڑگیا پھر یہ لفظ ترکی فارسی اور دوسری قرب وجوار کی زبانوں میں آیا تو آہستہ آہستہ’’اردو‘‘بن گیا اور فوجوں سے مختص ہوگیا چنانچہ ترکی وغیرہ میں شاہی گارڈ کیلیے ’’اردوئے معلی‘‘ کا لفظ بن گیا اور ایران وغیرہ میں فوجی ہیڈکوارٹر یا مرکز یا تربیت گاہ کو’’قول اردو‘‘ بھی کہا جانے لگا۔لیکن اس لفظ کو زبان کی حیثیت صرف ہندوستان میں ملی۔کیونکہ دوسرے ممالک میں تو اکثر ایک ہی ’’زبان‘‘ ہوتی تھی جو فوج میں بھی بولی جاتی تھی اور فوج میں زبان کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔لیکن ہندوستان تو قوموں، نسلوں، ادیان و مذاہب کی طرح ’’زبانوں‘‘ کا بھی ایک بہت بڑا مرکب ہے اس لیے افواج میں بھانت بھانت کے لوگ یکجا ہوجاتے تھے بڑی حد تک تو فارسی سے کام چلایا جاتا لیکن ہند کی ہر قوم ونسل کے لوگوں کو تو فارسی نہیں آتی تھی اور ایک جگہ رہتے رہتے بات چیت تو کرنا پڑتی ہے اس لیے یوں ایک مجموعی مرکب زبان بنتی گئی اور مروج ہوتی گئی۔

جو ہرزبان والوں کی واحد ذریعہ اظہار بن گئی اور بنتی گئی، وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ذخیرہ الفاظ بھی بڑھتا گیا اور دائرہ بھی۔یوں اردو زبان وجود میں آگئی جو سب کی ہے اور کسی کی بھی نہیں یا اس اس لیے کہ کسی کی بھی نہیں کہ یہ سب کی ہے۔اس کی حیثیت ایک ایسی مہربان اور شفیق عورت یا ماں کی ہے  جس کی اپنی اولاد تو نہیں ہے لیکن دوسروں کی اولاد کو پالتی پوستی ہیء ان سے وہی محبت کرتی ہے جیسی اپنی اولاد سے کی جاتی ہے یوں کہیے کہ اس نے اپنے’’بانجھ پن‘‘ کو محرومی نہیں بنایا بلکہ محبت اور شفقت بناکر بانٹنا شروع کردیا ہے، ساتھ ہی اتنی دیانت دار بھی ہے کہ دوسروں کی اولاد پر قبضہ نہیں کرتی بلکہ ہمیشہ انھیں ان کے اپنے نام اور شناخت کے ساتھ رکھتی ہے۔ہر ہر لفظ کیلیے صاف صاف بتاتی ہے کہ اس کی ’’اصلی ماں‘‘ کون تھی اور میں نے اسے کونسی ماں سے لے کر پالا ہے یا پال رہی ہوں چنانچہ ہر ہر زبان سے لیے ہوئے الفاظ اس میں صاف صاف اپنی ناموں کا پتہ دیتے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ حکومتوں نے اپنی سیاستوں کیلیے اسے دوسری زبانوں اور زبان والوں کے لیے ایک گونہ ناپسندیدہ بنادیا ہے ورنہ ہے سب کی ماں۔

اپنا تبصرہ لکھیں