امریکی صدر ٹرمپ اپنے انتخابی دعوؤں اور وعدوں کے برعکس دنیا کو جنگوں سے نجات دلا کر امن و امان کا گہوارا بنانے کے بجائے جنگ و جدل کی جس راہ پر چل پڑے ہیں، وہ نہ صرف عرب دنیا بلکہ یورپ و مغرب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ وینزویلا پر حملے اور قبضے کے بعد امریکا کا اگلا نشانہ ایران اورگرین لینڈ پرکنٹرول حاصل کرنے کا ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے کے اقدام کے قریب تھے اور مبصرین و تجزیہ نگار واضح طور پرکہہ رہے تھے کہ امریکا آیندہ دو چار دن میں ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے امریکا کا جنگی بحری بیڑا بھی مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا گیا تھا۔ امریکی صدر اپنے بیانات اور انٹرویوز کے ذریعے مہنگائی کے خلاف ایران میں ہونے والے عوامی احتجاج کو ہوا دے رہے تھے کہ ایرانی مظاہرین اداروں پر قبضہ کر لیں، جلد امریکی امداد ان کی مدد آنے والی ہے۔ ایران کا بجا طور پر یہ موقف تھا کہ ایران میں ہونے والا احتجاج ان کا اندرونی معاملہ ہے اور وہ بات چیت کے ذریعے اسے کنٹرول کر لیں۔
ایران نے اعلیٰ سطح پر امریکا پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ اپنے گماشتوں کے ذریعے ایرانی عوام کو خامنہ ای حکومت کے خلاف بھڑکا کر رجیم چینج کرنے کی سازش کر رہا ہے جس کا ایران پوری قوت سے جواب دے گا۔ ایرانی حکام نے سعودی عرب، قطر، بحرین اور دیگر ملکوں کو واضح طور پر یہ پیغام دے دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو وہ عرب ملکوں میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔ مذکورہ ممالک نے سفارتی سطح پر امریکی صدر ٹرمپ کو خطے کی امکانی جنگی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے بہرحال آمادہ کر لیا جس کے بعد ایران پر امریکی حملے کا فوری خطرہ فی الحال ٹل گیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا امریکی صدر ٹرمپ ایران پر حملے اور وہاں حکومتی تبدیلی کے اپنے عزم سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور آیندہ دنوں میں وہ ایران پر حملہ کرکے خطے کو نئی جنگ میں دھکیلنے سے باز رہ سکیں گے؟ کیا عرب ممالک کی سفارتی کوششیں مستقل طور پر ثمر آور ثابت ہوں گی؟ چین، روس اور اقوام متحدہ امریکا کو ایران، گرین لینڈ پر امریکی حملہ رکوانے میں کوئی موثر، جانبدار اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکیں گے؟
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسے سارے سوالات کا جواب ’’ہاں‘‘ میں نہیں دیا جا سکتا اور اس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ٹرمپ کا حالیہ ایک خوف ناک بیان ہے جس میں موصوف نے فرمایا تھا کہ ’’ میں جس ملک پر چاہوں اپنی فوج کو حملہ کرنے کا حکم دے سکتا ہوں، مجھے اس کارروائی سے میرے اپنے دماغ کے سوا کوئی چیز نہیں روک سکتی۔‘‘
اب ایسی صورت حال میں جب صدر ٹرمپ دیدہ و دانستہ تمام عالمی قوانین، اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹرکو بھی اپنے پاؤں تلے روندنے کا اعلانیہ اظہار کر رہے ہوں تو پھر ان سے کیا بعید اورکیا امید کہ وہ ایران اور گرین لینڈ کے حوالے سے اپنے عزائم سے پیچھے ہٹ جائیں گے، ہاں وقتی طور پر عرب ممالک کی سفارتی کوششوں سے ایران پر حملہ فوری حملے کا خطرہ ٹل گیا ہے، لیکن امریکی حملے کے خطرے کے امکانات پوری طرح موجود ہیں۔
آپ امریکا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں 1968 کی ہنگری بغاوت سے لے کر افغانستان، عراق، لیبیا اور ایران تک امریکا نے مختلف النوع بے بنیاد الزامات لگا کر مذکورہ ملکوں میں عوامی بغاوت کو ہوا دی، وقت کے حاکموں کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکایا۔1991 میں صدر بش نے عراقی عوام کو صدر صدام حسین کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی مہم چلائی، امریکی اتحادی افواج نے عراق میں صدام حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے والے پملفٹ بھی تقسیم کیے، کیمیائی ہتھیار رکھنے کا الزام عائدکیا اور بالآخر صدام حسین کو حکومت سے معزول کرکے پھانسی پر لٹکا دیا۔
لیبیا میں بھی امریکا نے کرنل معمر قذافی کے خلاف ایسے ہی عوامی احتجاج کو ہوا دے کر قذافی حکومت کا خاتمہ کیا۔ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کے الزام میں افغانستان کی طالبان حکومت کا خاتمہ کرکے وہاں امریکا نوازوں کی حکومت کی اور اب وینز ویلا کے بعد ایران اور گرین لینڈ پر حملہ کرکے وہاں کے تیل و معدنی ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کا آرزو مند ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ایک تازہ ترین انٹرویو میں پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی کا وقت آ گیا ہے، ایرانی قیادت ہزاروں افراد کو قتل کرکے اقتدار برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ جب کہ ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا دعویٰ ہے کہ ایران میں ہونے والے حالیہ فسادات میں صدر ٹرمپ خود ملوث ہیں وہ ایران پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی نازک صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے اور عرب ممالک مشترکہ طور پر سفارتی سطح پر امریکی صدر ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ایران پر غلبہ حاصل کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ مشرق وسطیٰ کو جنگ کے شعلوں کی نذر کرنے کے اقدام سے باز رہیں۔ یاد رکھیں کہ ایران پر حملے کے بعد دیگر مسلم ممالک کی باری بھی آ سکتی ہے جو امریکا اسرائیل مشترکہ منصوبے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی جانب بڑھتے ہوئے ناپاک قدم ہیں۔
