اسلام آباد:
سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ میں انکشاف ہوا کہ ایک وکیل کی شناخت اور پاسپورٹ استعمال کرکے کوئی جعل ساز بھارت پہنچ گیا اور جعل سازی نادرا کے ذریعے ہوئی۔
سینیٹر افنان اللہ نے وکیل کے ساتھ جعل سازی کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں اٹھادیا اور کہا کہ اٹارنی جنرل آفس کے کنسلٹنٹ کا جعلی پاسپورٹ استعمال کر کے جعل ساز 2023ء میں بھارت پہنچ گیا، متاثرہ وکیل یہاں موجود ہے اس سے پوچھ لیں۔
متاثرہ وکیل نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک شخص میری شناخت اور پاسپورٹ استعمال کر کے بھارت پہنچ گیا، اس شخص کی وجہ سے مجھے اور میرے والدین کو نادرا لے جا کر اپنے آپ کو پاکستانی شہری ثابت کرنا پڑا۔
ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ نادرا نے ایسی کئی جعل سازیوں کا معاملہ ہم سے شئیر کیا ہے، ایک ڈیش بورڈ بنایا ہے جس سے جعل سازی سے سفر کرنے والوں کا تدارک ممکن ہو۔
سینیٹر پلوشہ خان نے پوچھا کہ نادرا سے شناخت کیسے چوری ہو گئی، ڈیٹا چوری کیسے ہوا؟ اس پر ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ شہری اپنے پاسپورٹس اور شناختی کارڈ کے کوائف واٹس ایپ پر شئیر کرتے ہیں وہاں سے لیک ہونا ممکن ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ نادرا نے کئی افغان نیشنل اور دہشت گردوں کو بھی شناختی کارڈ جاری کر رکھا ہے۔ اس پر ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ یہ کیس 2023ء میں ہوا لیکن اب نادرا اور پاسپورٹس میں جدت لے آئے ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ نادرا، بینک اور ایف بی آر کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے، کسی بھی شہری کا ڈیٹا خریدنا ہو تو 500 روپے میں مل جاتا ہے، محکمے کے اندر سے کسی کے ملوث ہوئے بغیر اس لیول پر ڈیٹا چوری ممکن نہیں۔
ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ میں گارنٹی دیتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ اب کسی کا جعلی پاسپورٹس نہیں بن سکتا۔
متاثرہ وکیل نے کہا کہ میرے پاس دہری شہریت ہے، میں سفر کے لیے برطانوی پاسپورٹ استعمال کرتا ہوں، ایک سال سے ڈی جی پاسپورٹس سے ملنے کا انتظار کر رہا ہوں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت پاکستان سائبر سیکیورٹی سے متعلق اتھارٹی لا رہی ہے، افنان اللہ کو بھیجیں ہم ان کو نادرا پر بریف کریں گے۔
