راولپنڈی:
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان سمیت 11ملزمان کے خلاف 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی، وکلائے صفائی نے دو گواہان پر جرح مکمل کر لی۔
علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں، عدالت نے مسلسل غیر حاضری پر ملزم عاطف ریاض کے لیے سرکاری وکیل مقرر کر دیا جو گواہان پر جرح کرے گا۔
سماعت کے دوران وکیل صفائی فیصل ملک اور پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کے درمیان پھر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا ہے کہ پورا پاکستان پوچھ رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں کیوں ہیں؟وہ اڑھائی سال سے قید تنہائی میں ہیں۔ گزشتہ ہفتے اڈیالہ جیل سے واپسی پر پولیس نے خواتین کو گاڑیوں سے اتارا، ایک خاتون کو اکیلے ہراساں کیا گیا، یہ جو مرضی کرلیں، اللہ کے پلان کے آگے کچھ نہیں چلنے والا۔
صحافی کے سوال پر کہ علی محمد خان نے کہا ہے کہ جو لوگ اڈیالہ جیل جاتے ہیں وہ ٹک ٹاک بنانے جاتے ہیں، علیمہ خان نے جواب دیا اڈیالہ جیل کے باہر زبردست ٹک ٹاک بنتی ہے۔
ٹک ٹاک سب سے آگے نکل گیا ہے۔ مذاکرات کی بات اب آگے نکل گئی ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ کون سے مذاکرات کی بات ہو رہی ہے۔
ادھر فیصل محمود ملک ایڈووکیٹ نے کہ جیل انتظامیہ دس دن سے بانی کے وکالت نامے پر دستخط نہیں کروا رہی جس کے باعث بانی کے کیسز میں اپیلیں دائر نہیں ہوسکی ہیں، تمام سرکاری گواہ جرح میں بے نقاب ہوتے جارہے ہیں۔
