وینزویلا کے صدر کو اغواء کرنے کے بعد دنیا ایٹمی جنگ کے خطرات سے دوچار ہے، مولانا فضل الرحمٰن


ڈیرہ اسماعیل خان:

جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے صدر کو اغواء کرنے کے بعد دنیا ایٹمی جنگ کے خطرات سے دوچار ہے۔

شور کوٹ میں اپنی رہائش گاہ پر وانا اور لکی مروت کے عمائدین سے ملاقات میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کمیونزم اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی ناکامی کے بعد عالمی نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، پرانے سیاسی و اقتصادی نظاموں کی ٹوٹ پھوٹ نے دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سیاست کے تیزی سے تبدیل ہوتے تناظر میں پاکستان کی اجتماعی قومی قیادت کی بصیرت کی آزمائش شروع ہوگئی ہے، ان حالات میں سیاسی تنازعات کو گہرا کرنے کی بجائے قومی ہم آہنگی کو بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پچھلے 200 برس میں ہمارے خطہ نے بادشاہتوں، نوآبادیاتی جبریت، جمہوریت اور کمیونزم سمیت بہت سے نظام ہائے سیاست کو آزمایا، ان میں سے کسی نے بھی فلاح انسانیت کا فرض پورا نہیں کیا، اس وقت دنیا کے تمام سیاسی نظام نوع انسانی کے دکھوں کا مداوا کرنے اور فلاحی معاشروں کے قیام کا مقصد حاصل کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سترہویں صدی میں نسل انسانی کو بتایا گیا کہ تمام انسانی مسائل کا حل سائنس کی ترقی میں ہے لیکن سائنس کی ترقی نوع انسانی کی فلاح کی بجائے طاقت کے حصول کا ذریعہ اور خونریزی میں اضافے کا سبب بنی، بڑی طاقتوں نے ایٹم بم، ہائٹروجن بم اور ایسی بے رحم جنگی مشینیں تیار کرلیں جس نے کروڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، ابھی حال ہی میں اسرائیل نے غزہ میں کیمائی ہتھیاروں سے 80 ہزار زیادہ بے گناہ شہریوں کو شہید کردیا، یعنی سائنس نے انسانیت کو موت کی دہلیز تک پہنچا دیا۔

انہوں نے کہا مغرب میں نشاۃ ثانیہ اور روش خیالی کی تحریکوں نے زندگی کی مقصدیت اور خاندانی نظام کو تباہ کر دیا، مغرب کا مرد اداس ، عورت مغموم اور ہر انسان پرہجوم تنہائی کا شکار ہے، دیار مغرب کے فلسفی اب زندگی کو مقصدیت سے ہم کنار کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انسان کو اپنے تجربات اور مشاہدات سے سیکھنا چاہے، ہمارے اہل دانش، سیاستدان، بیوروکریٹ اور فوجی قیادت عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق شورائی نظام کو استوار کرنے کے لئے بحث کا آغاز کریں۔ بلاشبہ ہم ایک ایسے فلاحی معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والا سیاسی سسٹم بنا سکتے ہیں جس کے ذریعے عوام کے حق حاکمیت کا تحفظ اور حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں