باقی اشیاء میں سب سے اہم ہیں پھلوں اور سبزیوں کا کسی بھی قسم کا کچرا، ا س میں چھلکے اور پھل دونوں شامل ہیں- انھیں دوبارہ زیر استعمال لایا جا سکتا ہے، اس کے لیے آپ انھیںذرا سی تکلیف کرکے چھوٹا کاٹ لیں اور اپنے گھروں میں لان یا کیاری کی مٹی میں شامل کر لیں- اگر آپ کے گھر میں لان ہے نہ کیاری تو آج کل جگہ جگہ grow bags ملتے ہیں جو کہ بہت مہنگے بھی نہیں ہوتے ، ان میں آپ زیادہ تر کچرا اور تھوڑی مٹی ملا کر اس سے پودے یا چھوٹی موٹی سبزیاں اگا سکتے ہیں-
ا س کھاد میں ہم کاغذ اور گتے بھی کاٹ کر اور پانی ملا کر رکھ کر نرم کر کے ملا سکتے ہیں- اگر آپ خود باغبانی کے شوقین نہیں تو اپنے خاندان ، دوستوں اور خاص طور پر اپنے گھر کے قریب کسی شوقین کو ڈھونڈیں جس کے لیے یہ تمام کچرا مفیدہو گا اور وہ آپ سے یہ سب خندہ پیشانی سے وصول کر ے گا- اس سے پوچھ لیں کہ اسے کیا کیا کچراچاہیے ہو گا، ا س کے لیے سوکھے پتے، جھاڑو کے ساتھ اکٹھی ہونے والی مٹی، انڈوں کے چھلکے، کوئلے اور راکھ بھی مفید ہوں گے- ممکن ہے کہ وہ آپ سے خالی بوتلیں، جار اور لفافے بھی لے لے، اس کے پاس ہر چیز کا مصرف ہو گا۔
یہ وہ تمام کچرا ہے جس میں وہ اجزاء شامل ہیں جو کہ فصلوں کے لیے وہ کھاد بن جاتی ہیں جس میں کیمیاوی اجزاء شامل نہیں ہیں- دنیا بھر میں organic کے نام پر سبزیاں، پھل اور پرندے جانور پال کر کئی گنا زیادہ قیمت پر بیچے جاتے ہیں- اگر آپ کو اپنے اردگرد کوئی ایسا نہ ملے جسے آپ کے گھر کے کچرے میں سے وہ سامان چاہیے تو آپ زحمت کریں اور یہ اپنے ساتھ گاڑی میں رکھ کر کہیں قریبی فصلوں میں ڈال دیں یا ان درختوں کو جو آپ کو گھر کے نزدیک نظر آتے ہیں، بالخصوص پھل دار درختوں کو- بچوں کو سکھائیں کہ کاغذ اور ٹشو پیپر کا بے مقصد زیادہ استعمال نہ کیا کریں، انھیں ایسی وڈیو دکھائیں جس سے انھیں علم ہو کہ کاغذ اور ٹشو پیپر بننے میں کتنے درخت کٹتے ہیں- درخت جو ہمارے ماحول کے لیے ضروری بھی ہیں اور سب سے اولین بات یہ کہ وہ بھی جاندار ہیں- ہم بڑے لوگ مشکل سے بات سنتے، سمجھتے اور اثر کرتے ہیں، بچے اس عمر میں ہیں کہ وہ فطرت سے محبت کرتے ہیں- انھیں اگر بتایا جائے کہ ان کے بات کرنے سے بھی کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو وہ بے چارے ڈر جاتے ہیں اور احتیاط کرتے ہیں۔
باغبانی ایک بہترین اور مفید مشغلہ ہے، اس کے بارے میں آپ جتنا جانیں اور اس پر جتنا عمل کرتے جائیں گے تو آپ کو علم ہو گا کہ ہمارے گھر میں تو اتنا کچھ ہے جو کہ مٹی کا نعم البدل بھی ہو سکتا ہے- جوں جوں آپ اس میں زیادہ کوشش کریں گے، آپ خشک پھلوں کے چھلکوں، درختوں کے گرے ہوئے پتوں ، کاغذوں اور گتے، لکڑی کے برادے اور ہڈیوں کو بھی پیس کر تھوڑ ی مٹی میں ملا کر نہ صرف مٹی کا نعم البدل بنا سکتے ہیں بلکہ اس میں وہ صلاحیتیں ہوں گی جو کہ کسی اچھی سے اچھی کھاد کے ملادینے سے مٹی میں پیدا ہو جاتی ہیں۔
اپنے گھر کا پانی جو کہ استعمال ہو چکا ہوتا ہے، اسے بھی نالی یا سنک میں بہا کر ضایع کردینا نہ صرف غلط ہے بلکہ ایک اچھی کھاد کا زیاں بھی ہے- وہ پانی جس میں آپ چاو ل یا دالیں بھگوتے ہیں، سبزیوں سے مٹی اتارنے کے لیے بھگوتے ہیں، اس کے بعد وہ پانی نالی میں چلا جاتا ہے- ا س پانی سے تو ہم اپنے برتن تک دھو سکتے ہیں، گھروں میں پودوں کو دینے کے لیے یہ پانی بہترین ہے، صرف یہ احتیاط چاہیے کہ اس میں کسی نوعیت کے صابن کی آمیزش نہ ہو-
نہ صرف یہ پانی سبزیوں اورپھلوں کے پودوں کو دیا جا سکتا ہے بلکہ یہ پانی گھر کے اندر گملوں میں لگے ہوئے آرائشی پودوں تک کو دیا جا سکتا ہے – ہم کپڑے اور برتن دھونے میں جتنے پانی کا زیاں کرتے ہیں، اگر ہمیں علم ہو جائے کہ ہمیں اس کا کتنا کڑا حساب دینا ہے تو ہم کبھی اس کا ایک قطرہ بھی ضایع نہ کریں- صابن ملا پانی جو کہ کپڑوں اور برتنوں کی دھلائی کے بعد اکٹھا کر کے کسی بڑے ٹب یا بالٹی میں رکھا جا سکتا ہے ، اسے ہم غسل خانوں، گھروں کی گلیوں اور گاڑیوں کی دھلائی میں استعمال کر سکتے ہیں-
صرف ایک بار اتنی تکلیف کریں کہ دو دن کا کچرا اپنے گھر میں کسی ایک جگہ اکٹھا کریں ، اس کے بعد اپنے بچوںاور بڑوں کو اپنے ساتھ ملائیں اور ان سے کہیں کہ اس میں سے کارآمد اشیاء تلاش کرتے ہیں، انھیں ایک ایک چیز کی ذمے داری دیں ، کوئی کاغذ اکٹھے کرے، کوئی پلاسٹک ، کوئی چھلکے، کوئی لکڑی کوئی شیشہ، اس کے بعد ان میں سے وہ اشیاء الگ کریں جو کہ دوبارہ استعمال کی جا سکتی ہیں، پھر دیکھیں کہ اس کچرے کا کتنا حصہ باقی رہ جاتا ہے، ممکن ہے کہ نصف یا اس سے بھی زائد کم ہو جائے – محنت تو ذرا لگتی ہے اچھائی کے کام کرنے میں لیکن جب نتیجہ نظر آتا ہے تو ساری کدورت دور ہوجاتی ہے- ملک کی بہتری کے لیے اتنا سا حصہ ڈالیں اور اطمینان محسوس کریں!!
